اختلاف کے اسباب اور ان کا حل



》 اللہ تعالی کو امت محمدیہ کا اتحاد اس قدر محبوب ہے کہ اس نے جہاں ایک طرف ہمیں متحد رہنے کا حکم دیا تو دوسری طرف اتحاد کو قائم رکھنے کے لیے ان امور کی بھی نشاندہی کردی جو اتحاد ملت میں شگاف ڈالنے کا سبب بنتے ہیں، چنانچہ اللہ تعالی نے سورہ الحجرات میں اخوت ایمانی کے تذکرہ کے بعد اہل ایمان کو تمسخر، طنز، بد القابی، بد گمانی، تجسس اور 
                                                              غیبت سے روکا ہے، چنانچہ ٹھٹھا مذاق کرنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا:


》 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّن قَوْمٍ عَسَىٰ أَن يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِّن نِّسَاءٍ عَسَىٰ أَن يَكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ  (سورۃ الحجرات آیت نمبر 11

” اے لوگو جو ایمان لائے ہو، نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں”
 :طنزاور بد القابی سے منع کرتے ہوئے فرمایا:

》 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ  (سورہ احجرات:12

“اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بہت گمان کرنے سے پرہیز کرو کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں”۔ تجس سے منع کرتے ہوئے فرمایا:  وَلَا تَجَسَّسُوا ۖ اور ایک دوسرے کی جاسوسی نہ کرو -:

                       اور غیبت جو اتحاد ملت کے لیے زہر کی حیثیت رکھتی ہے، اس کے متعلق اللہ تعالی نے فرمایا:

 》وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ ۚ وَاتَّقُوا اللَّـهَ ۚ إِنَّ اللَّـهَ تَوَّابٌ رَّحِيمٌ (سورہ احجرات:

“اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے کیا تمہارے اندر کوئی ایسا ہے جو اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا؟ دیکھو، تم خود اس سے گھن کھاتے ہو اللہ سے ڈرو، اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور رحیم ہے”


اتحاد و اتفاق کی اہمیت کے پیش نظر ہی پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ملت اسلامیہ کے جملہ افراد کو بدن کے اعضاء کے مانند قرار دیا کہ اگر کسی ایک عضو میں درد ہوتا ہے تو اس کا سارا جسم مضطرب اور پریشان رہتا ہے، چنانچہ فرمایا: ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لیے باہمی ہمدردی اور شفقت میں ایک جسم کی مانند ہے، کہ جب اس کے کسی ایک عضو میں کسی طرح کا درد ہوتا ہے تو سارا جسم بے خوابی سے پریشان رہتا ہے

 کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے اتحاد کو عمارت سے تشبیہ دی چنانچہ فرمایا: ایک مومن دوسرے مومن کے لیے ایک عمارت کی طرح ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصہ کو مضبوط کرتا ہے، پھر آپ نے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں ملا کر اس کی وضاحت فرمائی-

کہیں فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو خود اپنے لیے پسند کرتا ہو-


عزیز قاری! آج امت مسلمہ مختلف جماعتوں، گروہوں، اور ٹولیوں میں بٹی ہوئی ہے، اس ختلاف کے اسباب کیا ہیں؟ اور ان کے ازالے کی کیا صورت ہو سکتی ہے، آئیے اس اہم نکتے کی بھی وضاحت کردی جائے، آج ہم جن اسباب کی بنیاد پر الگ الگ گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں انہیں ہم چار بنیادی باتوں میں محصور کر سکتے ہیں، تعلق باللہ کی کمی، مقام نبوت سے نا آشنائی، مقصدیت کا فقدان اور مسلکی اختلافات کی حقیقت کو نہ جاننا، سب سے پہلے تعلق باللہ کی کمی پر غور کر لیجئے آج ہمارا تعلق اپنے خالق و مالک سے کمزور ہو چکا ہے، بلکہ رسمی بن کر رہ گیا ہے، اللہ تعالی سے تعلق کی بنیاد پر ہی دل باہم جڑتے ہیں، آخر صحابہ کرام کے اندر اتحاد کس بنیاد پر پیدا ہوا تھا؟ ظاہر ہے توحید کی بنیاد پر، اسی کی بنیاد پر انصار نے اپنے گھر بار، مال و دولت اور زمین و جائیداد میں سے آدھا آدھا کرکے مہاجرین کے حوالے کر دیا تھا، اسی تعلق کی بنیاد پر وہ باہم شیر و شکر ہوگئے تھے اور آج اسی تعلق میں کمی آنے کی وجہ سے ہم اپنے ہی بھائی کے خون کے پیاسے بنے ہیں-


امت کے اختلاف کی دوسری وجہ مقام نبوت سے نا آشنائی ہے، کتنے لوگ ہیں جو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دعوی تو کرتے ہیں لیکن ان کی محبت میں خشکی پائی جاتی ہے بلکہ ان کا عمل بھی آپ کی سنت کے خلاف ہوتا ہے، یاد رکھیں صحابہ کرام میں جو اتحاد پیدا ہوا تھا اس میں حب رسول کا بھی دخل تھا لیکن یہ خالی خولی محبت نہ تھی بلکہ انہوں نے آپ کو اپنی زندگی کا آئیڈیل اور نمونہ بنا لیا تھا، دوسری جانب کتنے ایسے لوگ ہیں جنہوں نے آپ کی محبت میں ایسا غلو کیا کہ خالق و مخلوق کا رشتہ بھی گڈمڈ ہونے لگا


ہم مانتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ساری انسانیت میں سب سے افضل ہیں، ان کے جیسا انسان اس دنیا میں پیدا بھی نہیں ہوا اور نہ ہوسکتا ہے، ان کی محبت نجات کا ذریعہ ہے لیکن پھر بھی ہم حد کو پار نہیں کر سکتے، اللہ اللہ ہے اور نبی نبی، یہی وہ اندھی محبت تھی جس نے عیسائیوں کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ حضرت عیسی علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا مان لیں اور اسی خدشہ کا اظہار اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اخیر وقت میں کیا تھا-


لا تُطْروني كما أطْرَتِ النصارى ابنَ مريمَ ، فإنما أنا عبدُه ، فقولوا : عبدُ اللهِ ورسولُه (صحيح البخاري 3445

 “میری شان میں غلو مت کرنا جیسا کہ عیسائیوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کی شان میں غلو کیا میں محض ایک بندہ ہوں لہذا مجھے اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہو


اس لیے اگر ہمیں اتحاد امت مطلوب ہے اور ضرور ہونا چاہئے تو ہمیں اللہ تعالی سے تعلق کو مضبوط کرنا ہوگا، پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو اپنی اصلی شکل میں ماننا ہوگا، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بیچ فرق کو سمجھنا ہوگا اور کتاب و سنت کو اپنی زندگی کا لائحہ عمل بنانا ہوگا کیوں کہ اسی بنیاد پر امت متحد ہوئی تھی اور آج بھی اسی کی بنیاد پر متحد ہو سکتی ہے۔
امت کے اختلاف کی تیسری وجہ مقصدیت کا فقدان ہے، مقصد کی یکجہتی ایسی چیز ہے جو مختلف لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر دیتی ہے، معبودوں کے اختلاف کے باوجود لوگ ایک مقصد کے حصول کے لیے متحد ہو جاتے ہیں، جس کی مثالیں پہلے بھی پائی جاتی تھیں اور آج بھی پائی جا رہی ہیں، کیا دیکھتے نہیں کہ اسلام کے خلاف میں کفر کی ساری طاقتیں متحد ہو جاتی ہیں، کیوں ؟ اس لیے کہ ان کے سامنے ایک مقصد کا حصول ہوتا ہے، آج ہم بھی اگر اپنے مقصد حیات کو سمجھ لیں اور خیر امت کی ذمہ داری کو نبھانا شروع کردیں، جو ہمارا مقصود، ہمارا ہدف اور ہماری منزل ہے، تو ہماری صفوں میں اتحاد ضرور پیدا ہوگا، ذرا دیکھئے سورہ آل عمران میں اللہ تعالی نے دعوت کا حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ تمہارے اندر ایک جماعت ایسی ہونی چاہئے جو خیر کی طرف بلائے اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دے اس کے فورا بعد اللہ تعالی نے فرقہ بندی سے روکا

》 وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ ۚ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ﴿١٠٤﴾وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِن بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ ۚ وَأُولَـٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ  (سورہ آل عمران:104-105
“تم میں کچھ لوگ تو ایسے ضرور ہی رہنے چاہییں جو نیکی کی طرف بلائیں، بھلائی کا حکم دیں، اور برائیوں سے روکتے رہیں جو لوگ یہ کام کریں گے وہی فلاح پائیں گے (104) کہیں تم اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو فرقوں میں بٹ گئے اور کھلی کھلی واضح ہدایات پانے کے بعد پھر اختلافات میں مبتلا ہوئے جنہوں نے یہ روش اختیار کی وہ اُس روزسخت سزا پائیں گے

الحمد للہ آج ہم دعوت کا کام کر رہے ہیں، تبلیغ واصلاح میں لگے ہوئے ہیں لیکن اختلاف وہاں ہو جاتا ہے جب کہ ہر شخص اپنے آپ کو سپر ماننے لگتا اور دوسروں کی دعوتی کو ششوں کو حقارت بھری نظروں سے دیکھنے لگتا ہے، چنانچہ اختلاف فات یہیں سے شروع ہوتے ہیں، میری ناقص رائے میں طریقہ کار کے اختلاف کو مخالفت نہ تصور کیا جائے، شریعت اسلامیہ کی آفاقیت کے پیش نظر تقسیم کار کا ہونا کوئی عیب نہیں آپ اپنی کمپنی یا کارخانہ جس میں آپ کام کرتے ہیں ذرا اسی پر غور کرکے دیکھ لیجئے، اس میں مختلف شعبے ہوتے ہیں، ہرشعبے میں کام کرنے والا الگ الگ صلاحیت کا مالک ہوتا ہے، ہر ایک کو اپنی اپنی صلاحیت کا اندازہ ہوتا ہے اور دوسروں کی صلاحیت کو تسلیم کرتے ہیں تب جاکر کمپنی اپنے ہدف کو پانے میں کامیاب ہوتی ہے، اسی طرح مسلمانوں کے اندر بھی کام کرنے والی مختلف جماعتیں ہو سکتی ہیں، برادران وطن میں کام کے لیے ایک جماعت، اصلاح عقیدہ کے لیے ایک جماعت، اصلاح و تربیت کے لیے ایک جماعت، حالات حاضرہ سے باخبر رہنے کے لیے ایک جماعت، ہر میدان میں الگ الگ جماعتیں ہو سکتی ہیں، نمونہ کے طور پر ہم صحابہ کرام کی مختلف جماعتوں کو مختلف میدانوں میں دیکھ سکتے ہیں، زہدوعبادت میں سر فہرست حضرت ابو ہریرہ اور ابو ذر غفاری ہیں، تو بساط سیاست میں حضرت عمر اور امیر معاویہ نامور ہیں، میدان جنگ میں حضرت حمزہ اور حضرت خالد بن ولید ہیں تو فقہائے صحابہ میں عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر ہیں، اسی طرح تجارت میں عبدالرحمان بن عوف اور صہیب رومی کو شہرت حاصل ہے۔ رضی اللہ عنہم اجمعین
عزیز قاری ! امت کے انتشار کی ایک چوتھی وجہ جسے شاید مرکزی حیثیت حاصل ہے امت کے اندر پائے جانے والے مسلکی اختلافات کی حقیقت کو نہ جا ننا ہے، بالعموم یہ اختلافات اجتہادی اور علمی ہوتے ہیں، اس طرح کے اختلافات آج سے نہیں بلکہ شروع سے ہی چلے آرہے ہیں، خود صحابہ کرام کے بیچ اختلافات پائے جاتے تھے لیکن ان کے اختلافات نے کبھی عداوت کی شکل اختیار نہ کی، بطور مثال دیکھئے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ منی میں اتمام کے قائل تھے یعنی موسم حج میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ لوگوں کو مکمل نماز پڑھاتے، قصر نہیں کرتے تھے، لیکن حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جو صحابہ کرام میں فقیہ تھے منی میں قصر کے قائل تھے، پھر بھی وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز پڑھتے اور اتمام کرتے تھے، جب آپ سے اس سلسلے میں بات کی گئی تو آپ نے فرمایا: (إن الاختلاف شر) اختلاف کرنا شر و فساد کا باعث ہے۔ اس طرح آپ اور دیگر صحابہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز کا اتمام کرتے رہے، اس اندیشہ سے کہ امت میں جماعت بندی اور گروہ بندی نہ آجائے
صحابہ کرام کے بیچ فروعی مسائل میں اختلافات پائے جاتے تھے، لیکن یہ اختلافات کبھی انتشار و افتراق کا سبب نہ بنے، وجہ صرف یہ تھی کہ سب حق کے متلاشی تھے، قرآن و حدیث ان کا مطمح نظر تھا، یہی صفات ائمہ عظام کے اندر بھی پائے جاتے تھے، ائمہ اربعہ کے بیچ اختلافات پائے جاتے ہیں لیکن ان کا دل ایک دوسرے کے تئیں بالکل صاف تھا، ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف کبھی رنجش پیدا نہ ہوئی امام ذہبی نے سیراعلام النبلاء ( 10/16) میں لکھا ہے، یو نس الصدفی کہتے ہیں کہ میں نے امام شافعی رحمہ اللہ سے زیادہ دانا کسی کو نہیں دیکھا، ایک دن میں نے کسی مسئلہ میں ان سے مناظرہ کیا پھر جب ہم لوگ جدا ہونے لگے تو وہ ہم سے ملے، میرا ہاتھ تھاما اور فرمایا
 》 يا أبا موسى ، ألا يستقيم أن نكون إخوانا وإن لم نتفق في مسألة .
کیا یہ بہتر نہیں کہ ہم سب بھائی بھائی رہیں گو کہ کسی مسئلے میں متفق نہ ہو سکیں”
امام شافعی رحمہ اللہ سے متعلق ایک دوسرا واقعہ سنئے شاید آپ جانتے ہوں گے کہ نماز فجر میں امام صاحب کے نزدیک قنوت کا اہتمام ضروری ہے اگر کوئی بھول جائے تو سجدہ سہو لازم آتا ہے، لیکن خود امام شافعی رحمہ اللہ بغداد جاتے ہیں اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی مسجد میں نماز پڑھاتے ہیں تو قنوت کا اہتمام نہیں کرتے، جب لوگوں نے آپ سے ترک قنوت کی وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا: تأدبا لھذا الامام یعنی اس امام کے ادب و احترام میں قنوت نازلہ ترک کر دیا
ایسے ہی وہ لوگ تھے کہ اختلاف کے باوجود ان کے بیچ محبت قائم رہتی تھی اور آج بھی امت مسلمہ کو اسی آپسی محبت کی ضرورت ہے، ظاہر ہے اس کے لیے وسعت نظری کی ضرورت ہے اور وسعت قلبی کی بھی۔ تنگ دلی اور تنگ نظری سے ہمیں نقصان ہی ہوا ہے اور ہو رہا ہے بلکہ ہمیں کہنے دیا جائے کہ ہمارے اختلاف کی وجہ سے غیر قومیں اسلام سے بدظن ہو رہی ہیں، اسلام پر سوالیہ نشان اٹھ رہا ہے
ابھی چند دنوں کی بات ہے تعارف اسلام سے متعلق کچھ باتیں میں نے اپنے بلوگ پر لکھی تھی جس میں ذاکر نائک کا حوالہ بھی موجود تھا، کئی ایک لوگوں نے اس پر اپنا ریویو ڈالا تم اسی ذاکر نائک کی بات کر رہے ہو نا جس کا فلاں جگہ پر پروگرام تھا، تو مسلمانوں نے اسے رکوا دیا، فلاں جگہ پر آنا طے تھا، تو مسلمانوں نے اس کے خلاف احتجاج کیا، دیکھا! کیسا تبصرہ ہو رہا ہے؟ آخر ہم اسلام کی آفاقیت کو لوگوں کے سامنے کیسے پیش کر سکیں گے ؟ کیسے ہم خیر امت کی ذمہ داری نبھا سکیں گے؟
میرے بھائیو! اختلافات بہت ہو گئے، بیان بازیاں بہت ہو چکیں، اب ضرورت ہے متحد ہونے کی، سب سے پہلے ہم اپنی نیتوں میں اخلاص پیدا کریں، ہمارا کام محض اللہ کے لیے ہو، ہمارے ایک ایک عمل میں اللہ کی خوشنودی مطلوب ہو، اخلاص اور خیر خواہی کی نیت سے دوسروں کے اجتماعات میں شریک ہوں، اچھائیوں کو سراہیں اور کوئی غلطی ہے تو نیک نیتی کے ساتھ اور خیر خواہانہ انداز میں اسے دور کرنے کی کوشش کریں جب تک ایک دوسرے سے قریب نہ ہوں گے تلخیاں دور نہیں ہو سکتیں-
 اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہماری صفوں میں اتحاد پیدا کرے۔ آمین یا رب العالمین وصل اللہم علی نبینا محمد وعلی آلہ و صحبہ اجمعین
Courtessy-;Safattaimi.com 
Admin
Admin

. Welcome to my blog! I'm ISHTIYAQUE SUNDER, the owner and author. Here, I explore the wisdom of Hadith, delve into Islamic teachings, and bridge the gap between faith and science. Join me on this journey of knowledge, where tradition meets modernity, and spirituality aligns with scientific inquiry." if you like my article Share my article |Comment on my article | hit LIKE also | Thank you

कोई टिप्पणी नहीं:

एक टिप्पणी भेजें

You May Also Like

loading...